:
Breaking News

National News: پاک مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد انتخابات پر بھارت کا سخت مؤقف، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بھارت نے پاک مقبوضہ جموں و کشمیر میں منعقد کیے جا رہے نام نہاد اسمبلی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔

نئی دہلی۔پاک مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرائے جا رہے نام نہاد اسمبلی انتخابات پر بھارت نے سخت اعتراض درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پورا عمل غیر قانونی قبضے کو چھپانے اور علاقے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ کا پورا خطہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو اس وقت پاکستان کے قبضے میں ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ حکومتِ ہند کو پاک مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے نام نہاد انتخابات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس پورے انتخابی عمل کو مسترد کرتا ہے اور اسے کسی بھی صورت قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ انتخابی عمل دراصل پاکستان کی جانب سے اپنے غیر قانونی قبضے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، معاشی استحصال، بنیادی حقوق کی عدم فراہمی اور انتظامی دباؤ جیسے مسائل کو اس عمل کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پاک مقبوضہ کشمیر میں جاری احتجاج بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ میں "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی" کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی بیان بازی میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سمستی پور کے ویبھو سوریہ ونشی کی شاندار بیٹنگ پر کپتان شریاس ائیر کی تعریف

بینک آف بڑودہ نے صارفین کے لیے اہم سکیورٹی ایڈوائزری جاری کی

خطے میں امن کے لیے مکالمہ اور عوامی حقوق کا احترام ناگزیر

جموں و کشمیر سے متعلق ہر پیش رفت جنوبی ایشیا کی سیاست اور سلامتی پر اثر ڈالتی ہے۔ ایسے حساس معاملات میں تمام فریقین کے بیانات اپنی اپنی سرکاری پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن خطے میں دیرپا امن، استحکام اور عوامی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسانی حقوق، شفافیت اور پرامن ماحول کو ترجیح دی جائے۔ اختلافات کا پائیدار حل بات چیت اور ذمہ دارانہ سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *